آکسیجن اور سانس

بشکریہ انذار

سانس لینا عموماً اتنا آسان کام ہے کہ ہمیں زندگی بھر کبھی اس کے بارے میں توجہ دینے، سوچنے، شکر کرنے کی طرف دھیان تک نہیں جاتا۔ اسی سانس سے ملنے والی آکسیجن ہماری خوراک کو توانائی میں تبدیل کرتی ہے۔آکسیجن کے بغیر دنیا میں زندگی صرف خوردبینی جانداروں تک محدود رہتی، پیچیدہ نظام والے انسان اور دیگر جانوروں کا وجود ممکن ہی نہ ہوتا۔سانس لینے کے باقی عمل کو تو چھوڑیے۔ صرف آکسیجن کے بننے کے عمل کو آئیے دیکھتے ہیں۔

دنیا کے تقریباً آٹھ ارب انسانوں کو مہیا کی جانے والی آدھی آکسیجن کہاں سے آتی ہے۔ یہ کہانی جادوئی کہانیوں سے بھی زیادہ دلچسپ اور پراسرار ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا گرم صحرا صحارا اور دنیا کا سب سے بڑا ٹراپیکل جنگل ایمیزون ہزاروں کلومیٹر دور ہیں۔ ان کے درمیان براعظم افریقہ اور بحر اوقیانوس سمندر حائل ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتائے گی کہ یہ اتنا دور ہونے کے باوجود آپس میں کیسےجڑے ہوئےہیں۔ ایمازون کا رین فارسٹ دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے۔ اس کا رقبہ تقریبا 55 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ یعنی پاکستان کے رقبے سے تقریبا چھ گنا زیادہ۔ اس میں تقریبا چار کھرب درخت اور تمام دنیا کے تازہ دریائی پانی کا پانچواں حصہ بہتا ہے۔ ہر سال ہزاروں ٹن فاسفورس جو پودوں کے لیے اہم غذا ہے، بارشوں اور سیلاب سے ایمیزون کے جنگل سے بہہ جاتی ہے۔ اب پودوں کو اپنی نشوونما کے لیے فاسفورس چاہیے۔

ایتھوپیا جو تقریباً گیارہ ہزار کلومیٹر دور ہے وہاں ڈینا کل نمک کا صحرا ہے۔ مشرقی افریقہ کے اس صحرا اور دنیا کے سب سے بڑے صحرا صحارا جس کا رقبہ تقریبا 92 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ یعنی پاکستان سے تقریباً گیارہ گنا بڑا۔ ہوائیں ان صحراؤں سے ریت اور گرد کا طوفان اٹھاتی ہیں۔ ہر انفرادی ذرہ انسانی بال سے بھی زیادہ باریک ہے لیکن یہ سب مل کر اتنے بڑے طوفان کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ جو خلا سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

تقریباً اٹھارہ کروڑ ٹن سے زائد ریت اور گرد کا یہ صحرائی طوفان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے پورے براعظم افریقہ کو پار کرتا، راستے میں بحرِ اوقیانوس کے پانیوں کو عبور کرکے جنوبی امریکہ کے ساحل پر ایمازون کے جنگل سے اس کا بڑا حصہ جا ٹکراتا ہے۔ ریت اور گرد کے یہاں ٹکرانے والے 2 کروڑ ستر لاکھ ٹن کے طوفان میں بائیس ہزار ٹن فاسفورس بھی شامل ہے۔ ٹھیک تقریبا اتنی ہی جتنی وہاں ضرورت ہے۔ پودے اس کھاد کے منتظر ہیں۔ کھاد ملتے ہی پودے تیزی سے بڑھنا شروع ہوتے ہیں۔ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہونا اور آکسیجن بننا شروع ہوجاتی ہے۔ ایک درخت کی آکسیجن دو آدمیوں کے لیے کافی ہے۔ لیکن ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ویسا نہیں ہے۔ مدتوں یہ سمجھا جاتا رہا کہ ایمیزون کا یہ جنگل زمین کے پھیپھڑے ہیں۔ ایمیزون کا یہ جنگل زمین کے رہنے والوں کی ضرورت سے بیس گنا زیادہ آکسیجن پیدا کرتا ہے لیکن اس سے باقی دنیا کو ایک سانس برابر آکسیجن بھی نہیں ملتی۔ یہ ساری آکسیجن اسی جنگل کے انسان اور جانور استعمال کر لیتے ہیں۔ یہ جنگل یقیناً ہمیں سانس لینے میں مدد کرتا ہے لیکن اپنی آکسیجن کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے flying river یعنی اڑتے دریا کے باعث۔ اب دیکھیے یہ جنگل کیسے پورے سیارے کو حیرت انگیز طریقے سے سانس لینے میں مدد کرتا ہے۔ پودے کھاد پاتے ہی تیزی سے بڑھنے لگے۔ جنگل کے فرش سے پودے پمپ کی مانند پانی کھینچتے بلندی پر  لے جانے لگتے ہیں۔ دل جیسے خون پمپ کر کے سارے بدن میں پہنچاتا ہے۔ یہ جنگل گویا زمین کا  دھڑکتا ہوا دل ہے۔درخت پانی پمپ کر کے فضا میں بکھیرتے ہیں۔ اسے ٹرانسپیریشن کہا جاتا ہے۔ جنگل کا سمندر جتنا رقبہ آٹھ گنا زیادہ پانی فضا میں بکھیرتا ہے۔ ایمزون میں ایک بڑا درخت ایک دن میں تقریبا ایک ہزار لیٹر پانی فضا میں خارج کرتا ہے۔ نیچے جنگلوں میں بہنے والا ایمیزون دریا سمندر میں پانی پھنکنے والا دنیا کاسب سے بڑا دریا ہے۔ یہ سمندر میں 17 ارب ٹن پانی روزانہ پھینکتا ہے۔ جبکہ ایک عام روشن دن میں ایمیزون میں درخت تقریبا 20 ارب ٹن پانی زمین سے کھینچ کر ہوا میں بکھیرتے ہیں۔ سورج کی روشنی سے کام کرتا یہ ایک شاندار سپرنکل سسٹم ہے۔ اگر اس پانی کو ہمیں فرض کریں کسی بڑی electric kettle میں ابال کر خود بھاپ بنانا پڑے تو ہمیں دنیا کے سب سے بڑے چائنا کے ڈیم جیسے تیس ہزار ڈیموں سے پیدا ہونے والی بجلی روزانہ چاہیے ہوگی ۔

فضا میں بکھیرے گئے قطرے پانی سے بھاری ہوتے ہیں، ہوا کا دباؤ اس علاقے میں کم ہونا شروع ہوتا ہے۔ کم پریشر زیادہ پریشر والے علاقے سے ہوا کھینچتا ہے۔ بحر اوقیانوس سے ہوا چلی آتی ہے۔ یہ ہوا اسے ایک فلائنگ ریور یعنی اڑتے دریا کی شکل دے دیتی ہے۔ یہ اڑتا دریا اگر عام زمین پہ بہنے والا دریا ہوتا تو زمین کا سب سے بڑا دریا ہوتا۔ اس اڑتے دریا کا رخ بحرالکاہل کی جانب ہے۔ راستے میں دنیا کا طویل ترین پہاڑی سلسلہ اینڈیز ہے ۔7000 کلومیٹر سے زائد لمبی اور 4 کلومیٹر اونچی یہ پہاڑی دیوار اس آسمانی دریا کو آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے۔ اگر یہ پہاڑی سلسلہ نہ ہوتا تو یہ آسمانی دریا پیسیفک سمندر پہ جاکر برس جاتا۔ یوں یہ ساری بارش سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتی۔ یاد رہے انڈیز کے دوسری طرف جہاں بارش نہیں پہنچ پاتی وہاں صحرا ہے۔ یہاں بادل برسنا شروع کرتے ہیں۔ یہ بارشیں واپس ایمیزون کے جنگل اور اردگرد کے ممالک پر برستی ہیں۔ اردگرد کے ممالک کی زراعت اور معیشت کا انحصار انھی بارشوں پر ہے۔ بارشوں سے تیز بہتا پانی راستے میں آتی چٹانوں کو توڑتا ہوا ضروری معدنیات لے کر پہلے ندی نالوں دریاؤں اور پھر سمندر کی تہہ میں پہنچ جاتا ہے۔ یہاں آکسیجن کی کہانی کے سب سے پراسرار کردار ان کے منتظر ہیں۔ انسانی بال سے چار گنا باریک ڈائے ایٹم، یہ ہماری آکسیجن کی سپلائی کے خفیہ کارندے ہیں۔ یہ چٹانوں سے آئی سیلیکا سے نئے شیل بناتے ہیں۔ یوں یہ بڑھنا شروع ہوتے ہیں۔ ہر دن یہ دوگنا ہونا شروع ہوتے ہیں۔اور ہر ایک آکسیجن بنانا شروع کر دیتا ہے۔ ہماری ہر دو سانسوں میں سے ایک کی آکسیجن ان کی بنائی ہوئی ہے۔ ہمیں یہ اکیلے نظر نہیں آتے لیکن یہ کھرب ہا کھرب کی تعداد میں ہوتے ہیں۔

خلا سے نظر آنے والے سمندروں کے سینکڑوں میل پھیلے نیلے اور سبز رنگ ان ہی کی وجہ سے بنتے ہیں۔ برفانی علاقوں میں گلیشیر ٹوٹتے ہوئے اپنے ساتھ چٹانوں کو  لے کر سمندر میں گرتے ہیں۔ یہ چٹانیں ڈائے ایٹم کی خوراک سے پُر ہوتی ہیں۔ خوراک ملتے ہی یہ تیزی سے بڑھنا شروع ہوتے ہیں۔ خوراک ختم ہوتے ہی ڈائے ایٹم مرنا شروع ہوتے ہیں۔ مردہ ڈائے ایٹم سمندر کے فرش پر گرنا شروع ہوتے ہیں۔ کارپٹنگ ہونا شروع ہوتی ہے۔ روئی کے گالوں کی طرح سمندر کا فرش ڈھکنا شروع ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ سمندر کی یہ سطح اونچی ہونا شروع ہوتی ہے۔ بعض جگہ 800 میٹر تک۔ جوں جو ں سمندر بھرنا شروع ہوتا ہے۔ سمندر کے پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوتی ہے۔ پانی اوپر ختم ہونا اور یہ حصہ خشک ہونا شروع ہوتا ہے۔ یہ مردہ ڈائے ایٹم شیل، گرد اور ریت بن جائیں گے۔ لاکھوں سالوں بعد یہ حصہ ایتھوپیا اور صحارا جیسا صحرا بن چکا ہوگا ۔جہاں سے پھر آکسیجن کے سفر کا ویسے ہی نیا آغاز ہوگا۔

اب ذرا سوچئے شعور کی عمر کو پہنچنے تک ہم اس کائنات سے اتنے مانوس ہوچکے ہوتے ہیں کہ اس کا عجوبہ پن ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے ورنہ ہمارا وجود اور ہمارے اردگرد پھیلی کائنات کی تمام چھوٹی بڑی چیزیں خدا کی قدرت، علم، حکمت کی وہ کہانیاں بیان کرتی ہیں کہ ایک ایک کہانی انتہائی دلچسپ اور لاجواب ہے۔لاکھوں سال کے عمل کے نتیجے میں صحارا کے صحرا میں کھاد تیار ہوئی۔ صحرا سے ریت اور گرد کی کھاد کو ہواؤں نے ہزاروں کلومیٹر دور ٹھیک نشانے پر  لے جا کر جنگل پہ بکھیرا۔ وہاں کھاد کی ٹھیک اس وقت ضرورت تھی۔ چار کھرب درختوں اور بے شمار پودوں کو نئی زندگی ملی۔ وہاں پانی کے دنیا کے بیس فیصد ذخائر پہلے سے موجود تھے۔ پودوں کی نئی زندگی سے لاکھوں جانوروں اور بے شمار کیڑے مکوڑوں کی خوراک کا بندوبست ہوا۔ پھر بارش سے جنگل کی نئی زندگی اور اردگرد کے ممالک کے کروڑوں باشندوں کے لیے روزگار کے امکانات شروع ہوئے۔ ان ممالک کی 4000 ارب ڈالر کی معیشت کا انحصار ان بارشوں پر ہے۔ پھر بارش سے ڈائے ایٹم کی خوراک کا بندوبست ہوا۔ اور دنیا بھر کے لیے آکسیجن بننا شروع ہوئی۔ ہر چیز کیسی خوبصورتی اور پرفیکشن سے ہو رہی ہے۔

اتنی بڑی زنجیر کی ایک کڑی بظاہر ریت کا طوفان ہے جو ہزاروں کلومیٹر دور سے شروع ہوا۔ اس نے کروڑوں انسانوں، لاکھوں جانوروں، کھربوں پودوں، کیڑے مکوڑوں کے لیے رزق کے دروازے کھول دیے ہر چیز  نے ٹھیک ویسا ہی رول پلے کیا جیسا اسے کرنا تھا۔ اور ہاں جنگل کٹ رہے ہیں، جل رہے ہیں، زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے لیکن دنیا میں لاکھوں سال سے آکسیجن 95.20 فیصد ہی رہ رہی ہے۔ ٹھیک اتنی جتنی ہماری زندگی کے لیے ضروری ہے۔ کم ہو تو ہمارا سانس لینا مشکل۔ زیادہ ہو تو ذرا سی آگ فوراً پورے جنگل کو جلا دے۔ہر روز ہم ایک منٹ میں 16 اور دن میں تقریبا تئیس ہزار سانس لیتے ہیں۔ اور شاید ہی زندگی میں کبھی ہم  نے کسی ایک سانس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں