حضرات داتا گنج بخشؒ بھی شام کے وقت عام مریدوں کیلئے درس و تدریس کا اہتمام کرتے تھے‘ لوگ آتے تھے‘ سوال کرتے تھے اور علم کی پیاس بجھاتے تھے‘ آپ ایک روز مریدوں کے درمیان بیٹھے تھے‘ لاہور کا ایک مرید آیا اور آپ سے پوچھا ”حضور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں افضل ترین عبادت کیا ہے“ حضرت داتا صاحب نے مسکرا کر دیکھا اور فرمایا ”خیرات”،اس شخص نے دوبارہ عرض کیا ”اور افضل ترین خیرات کیا ہے؟“ آپ دیر تک سر دھنتے رہے اور پھر فرمایا ”معاف کر دینا“ آپ چند لمحے رک کر دوبارہ گویا ہوئے ”دل سے معاف کر دینا دنیا کی سب سے بڑی خیرات ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ خیرات سب سے زیادہ پسند ہے‘ آپ دوسروں کو معاف کرتے چلے جاو،اللہ آپ کے درجے بلند کرتا چلا جائے گا“۔
حضرت داتا گنج بخشؒ نے درست فرمایا تھا‘ تصوف کی یونیورسٹی میں صوفی کب صوفی بنتا ہے؟ یہ اس وقت صوفی بنتا ہے جب اس کا دل نفرت‘ غصے اور انتقام کے زہر سے پاک ہو جاتا ہے‘ جب یہ معافی کے ڈٹرجنٹ سے اپنے دل کی ساری کدورتیں دھو لیتا ہے‘ اہل تصوف کے بارے میں کہتے ہیں‘قاتل کو صوفی کا خون تک معاف ہوتا ہے اور یہ معافی کی وہ خیرات ہے جو صوفیاءاکرام دے دے کر بلند سے بلند ہوتے چلے جاتے ہیں‘ان کے درجے بڑھتے چلے جاتے ہیں‘ میرا بابا کہتا تھا‘ تم معاف کرنا سیکھ لو‘ تمہیں کسی استاد کی ضرورت نہیں رہے گی‘ سارے حجاب اورسارے نقاب اتر جائیں گے۔میرا بابا اور حضرت داتا گنج بخشؒ دونوں درست فرماتے تھے۔









